چندی گڑھ، 12/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہریانہ میں ریزرویشن سمیت 6 دیگر مطالبات کو لے کر جاٹوں کا دھرنا 15ویں دن داخل ہو گیا ہے۔29/جنوری سے ریاست کے 19مقامات پر جاٹ برادری کے لوگ غیر معینہ دھرنے پربیٹھے ہوئے ہیں۔جاٹ لیڈروں اور حکومت کے درمیان ان کے مطالبات کو لے کر ہفتہ کو پانی پت میں میراتھن میٹنگ بھی ہوئی تھی، جس میں کئی مسائل پر دونوں فریق متفق ہو گئے تھے،لیکن کچھ مسائل پر دونوں ہی فریقوں کے درمیان بات نہیں بن پائی تھی، جس پر حکومت کی طرف سے چیف سکریٹری کی قیادت میں بات چیت کے لیے قائم کمیٹی نے ان کے مطالبات کو وزیر اعلی کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی، اس کے بعد دونوں ہی فریق جلد ہی اگلے دور کے مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے۔جاٹ لیڈروں اور حکومت کے درمیان بھلے ہی مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے مذاکرات کا دور جاری ہو، لیکن دھرنے کی تمام جگہوں پر مظاہرین پہلے کی طرح ہی ڈٹے ہوئے ہیں۔جاٹ لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات کو نہیں مانا جاتا ہے، وہ اپنی تحریک ملتوی نہیں کریں گے۔اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے آج دھرنے کی جگہوں پر بھیڑ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، وہیں انتظامیہ کی طرف سے مسلسل دھرنوں اور دیگر حساس مقامات پر نگاہ رکھی جا رہی ہے، چنڈی گڑھ میں بنے ایمرجنسی روم میں مسلسل دھرنے سے منسلک ہر دو گھنٹے کی رپورٹ ڈپٹی کمشنروں کی طرف سے بھیجی جا رہی ہیں۔